13 مئی 2011 - 19:30

پاکستان کی پارلیمان نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوجی کارروائی میں ہلاکت کی تحقیقات کے لیے آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

ابنا: یہ قرارداد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے آخر میں منظور کی گئی۔ یہ اجلاس ایبٹ آباد آپریشن کے بعد وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے طلب کیا تھا۔اس قرارداد سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نے اراکین کو بریفنگ دی اور ان کے سوالات کےجواب دیئے۔ ان کے علاوہ بری فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز اور فضائیہ کے حکام نے بھی اراکین کو بریفنگ دی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی یکطرفہ کارروائیاں اور ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ حملے فوری طور پر بند نہ ہوئے تو پاکستان کو مجبوراً ضروری اقدامات اٹھانے پڑیں گے اور ان اقدامات میں افغانستان میں نیٹو اور آئساف کے لیے رسد بند کرنے کا بھی اقدام ہے۔قرارداد کے مطابق امریکی یکطرفہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی عوام یکطرفہ آپریشنز کو برداشت نہیں کرے گی اور اس قسم کے آپریشن عالمی اور خطے کے لیے خطرناک ہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔ ’پاکستان کی عوام اور ادارے قومی مفادات اور سٹریٹیجک اثاثوں کا تحفظ کریں گے اور ان کے خلاف کسی قسم کی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت